ابو علی کیست حسین نام اور عبد الله بن حسن بن علی بن سینا اس کا سلسایہ نسب ہے۔ مشرقی میں عام طور پر اس کو صرف شیخ یا شیخ الرئیس کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ یہ بینظیر فاصل مزید پڑھیں
ابو علی کیست حسین نام اور عبد الله بن حسن بن علی بن سینا اس کا سلسایہ نسب ہے۔ مشرقی میں عام طور پر اس کو صرف شیخ یا شیخ الرئیس کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ یہ بینظیر فاصل مزید پڑھیں
ولیم ہنری کوئلیم (10 اپریل 1856- 23 اپریل 1932)، جنہوں نے اپنا نام بدل کر عبداللہ کوئلیم رکھا اور بعد میں ہنری مارسل لیون یا ہارون مصطفیٰ لیون کے نام سے بھی مشہور ہوئے،وہ 19ویں صدی کے برطانوی عیسائیت سے مزید پڑھیں
شاید بہت کم لوگ یہ جانتے ہوں گے کرنل نیڈو ایسٹ انڈیا کمپنی کا ایک افسر تھا. برصغیر آیا تو ایک گجر لڑکی سے اسے محبت ہوگئی. گجروں نے اسے اس شرط پر لڑکی دینے کی حامی بھری کہ وہ مزید پڑھیں
مرزا سلطان بیگ مغل خاندان کے چشم چراغ تھے۔ان کے والد مرزا غفور بیگ حیدرآبادکے معروف زمیندار اور رئیس تھے،ان کے پڑدادا مرزا ولی بیگ مغلوں کے شاہی خاندان میں سے تھے اور دہلی کے رئیس اور آخری مغل بادشاہ مزید پڑھیں
اسلام آباد سے 54کلو میٹر پشاور روڈ پر حسن ابدال میں شاہراہ کے دائیں جانب ایک پہاڑی کی بلندی پر صوفی بزرگ بابا ولی قندھاری کی بیٹھک واقع ہے۔جہاں روزانہ صبح سے شام تک عوام کی ایک بڑی تعداد آتی مزید پڑھیں
سلطان غیاث الدین بلبن کا بڑا بیٹا شہزادہ محمد سلطان جو ملتان کا حاکم تھا ۔علمی قدر دانی اور کمال پروری میں شہرہ آفاق تھا۔اس کے عہد میں ملتان رشک بغداد ہواکرتا تھا۔امیر خسرو اور امیر حسن کے علاوہ بڑے مزید پڑھیں
1542 ءمیں ہندوستان کے ساحلی علاقوں مالا بار اور گوا پرتگالیوں کے قبضے کے بعد ہندوستان کی عورتوں کے ساتھ نہایت شرمناک اور توہین آمیز سلوک کیا گیا۔بہت سی عورتیں اچھے برے خاندانوں کی جو قید ہو کر آئیں تھیں مزید پڑھیں
ایک وقت تھا جب پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی(پی ڈی پی) کا ملک میں ایک نام تھا- نوابزادہ نصراللہ خان اس کے سربراہ تھے-انہیں پاکستان کی سیاست میں ہمیشہ جوڑ توڑ کا بادشاہ تسلیم کیا جاتا رہاہے- مظفرگڑھ سے تعلق رکھنے والے مزید پڑھیں
مغلیہ دور کا مصنف درگاہ قلی خان جو مغل بادشاہ محمد شاہ رنگیلا کے دور حکومت میں گزرا ہے وہ لکھتا ہے کہ ادا بیگم دہلی کی مشہور بیگم ہیں جو پائجامہ نہیں پہنتیں، بلکہ اپنے بدن کے نچلے حصے مزید پڑھیں
اطالوی سیاح نکولو منوچی نے لکھا ہے۔ کہ اورنگزیبی دور میں جب موسیقی پر پابندی لگی تو گویوں اور موسیقاروں کی روٹی روزی بند ہو گئی۔ آخر تنگ آ کر ایک ہزار فنکاروں نے جمعے کے دن دہلی کی جامع مزید پڑھیں
Recent Comments