اصول نہیں، پاس ورڈ بدلتے ہیں: پاکستانی سیاست کے وفاداری بدل بابے

پاکستان میں جمہوریت سیاسی وفاداریوں کا سرکس ہے—جہاں شیر بھی وہی ہے، جوکر بھی وہی، اور تماشائی بھی بیچارے عوام۔اٹک کے محی الدین لال بادشاہ ہوں یا میاں ممتاز دولتانہ کے پکے ہم سفر، ان کی سیاسی وفاداری ایسی تھی جیسے بس کا کنڈکٹر—جہاں رش دیکھا، وہیں لٹک گئے۔ 1937ء اور 1946ء میں یونینسٹ پارٹی کے ٹکٹ پر فتح کے جھنڈے گاڑے، اور جیسے ہی پاکستان کی ٹرین پلیٹ فارم پر آنے لگی، جناب نے مسلم لیگ کا ڈبہ پکڑ لیا۔ نظریہ؟ ارے صاحب! نظریہ تو وہ رومال ہے جو ہر موسم میں رنگ بدل لیتا ہے۔شمالی اٹک سے سردار ممتاز علی خان، سردار سکندر حیات کے سیاسی وارث—یعنی وراثت میں اصول نہیں، پارٹی چینج کارڈ ملا تھا۔ یونینسٹ امیدوار ملک محمد اکرم شمس آباد کو شکست دی، پھر قیامِ پاکستان کے بعد مسلم لیگ میں ایسے شامل ہوئے جیسے دلہن سسرال میں—نئے کپڑے، نیا نام، پرانی عادتیں۔لائل پور کے نور اللہ صاحب یونینسٹ تھے، مگر جیسے ہی مسلم لیگ کی ہوا چلی اور اقتدار کی خوشبو آئی، جناب کا نظریہ بھی خوشبو دار ہو گیا۔ مسلم لیگ کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے، وزارتِ خزانہ تک جا پہنچے۔ یونینسٹ امیدوار پیر ناصر الدین کو ہرا دیا، اور پھر کیا ہوا؟ وہی پیر ناصر الدین اور ان کے بھائی پیر نذر حسین بھی مسلم لیگ میں آ کر ایسے رچ بس گئے جیسے نمک پانی میں۔ بعد میں تو ان کی خاص پہچان ہی یہ بنی کہ جس کی حکومت ہو—وہی ان کی جماعت! قریشی گروپ کے ستون ملک نواز یونینسٹ امیدوار تھے، سید مصطفیٰ شاہ گیلانی سے ہار گئے۔ گیلانی صاحب پہلے یونینسٹ تھے، مگر جب مسلم لیگ کو طاقتور دیکھا تو پارٹی ایسے بدلی جیسے شادی میں ویٹر پلیٹ بدلتا ہے—جو سامنے ہو، وہی اٹھا لو۔ نتیجہ؟ کامیابی قدم چومنے لگی۔
یہ سب کہانیاں مل کر ایک ہی سبق دیتی ہیں:
پاکستانی سیاست میں کچھ لوگ نظریات نہیں بدلتے، بس جیکٹ الٹ لیتے ہیں۔ ان کے لیے پارٹی منشور نہیں، اقتدار کا پتہ اہم ہوتا ہے۔ عوام ووٹ دیتے رہتے ہیں اور یہ حضرات پارٹی بدل بدل کر ثابت کرتے رہتے ہیں کہ
اصول ان کے پاس ہوتے تو شاید
اتنے آسانی سے فروخت نہ ہوتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں