داؤد خان کی بغاوت، بھٹو کی سفارتکاری اور پشتونستان کا ٹوٹا ہوا خواب

رستے میں انہیں اطلاع ملی کہ امریکی صدر نکسن شدید بیمار ہیں—حالانکہ درپردہ وہ واٹرگیٹ اسکینڈل میں بری طرح پھنس چکے تھے۔ یہ سن کر بھٹو نے یورپ میں کچھ دیر رکنے کا فیصلہ کیا، مگر وہاں ان کے سامنے ایک اور نہایت سنگین خبر آگئی—افغانستان، جو پہلے ہی پاکستان کا بے چین اور حساس ہمسایہ تھا، ایک بڑے سیاسی طوفان کی زد میں آ چکا تھا۔17 جولائی کو بھٹو کو بتایا گیا کہ سردار محمد داؤد خان نے ایک محلّی بغاوت کے ذریعے شاہ ظاہر شاہ کو ہٹا کر اقتدار پر قبضہ کر لیا ہے اور افغانستان کو بادشاہت سے جمہوریہ بنا کر خود صدر بن بیٹھے ہیں۔

سردار داؤد خان، ظاہر شاہ کے سگے کزن تھے اور جوانی سے ہی سیاست میں سرگرم تھے۔ وہ محمد عزیز خان کے بیٹے تھے—جو شاہ نادر شاہ کے بڑے سوتیلے بھائی تھے۔ داؤد خان نے پیرس میں تعلیم حاصل کی تھی اور اعلیٰ انسانی اقدار پر یقین رکھنے والے آزاد خیال انسان تھے۔ وہ 1935 سے 1939 تک قندھار کے گورنر رہے۔ پھر کابل کور کے کمانڈر اور لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر آئے، دفاع اور داخلہ جیسے اہم وزارتی محکمے سنبھالے، اور 1953 میں وزیرِاعظم بنے۔ ان کے ترقی پسند نظریات نے انہیں سوویت یونین کے قریب کیا، جس کی مدد سے انہوں نے کئی عوامی فلاحی منصوبے مکمل کیے۔

مگر ان کا ایک خواب، پورے خطے کے لیے خطرے کا باعث بنتا جا رہا تھا—دونوں جانب کے پشتونوں کو یکجا کرنا اور ایک ’’پشتونستان‘‘ بنانا۔ یہی وجہ تھی کہ افغانستان کے تاجک، ازبک اور دوسرے غیر پشتون کمزور اور بےچین ہوگئے۔ داؤد خان کے دور میں پشتونوں کو کھل کر نوازا گیا، یہاں تک کہ اعلیٰ ترین سرکاری مناصب تقریباً انہی کے قبضے میں چلے گئے۔
سرحد کے قریب پشتون قبائل نے جب اس پالیسی کے تحت مسلح بغاوتیں شروع کیں تو داؤد خان نے خود کو مزید سوویت یونین اور بھارت کے قریب کر لیا۔ دونوں ممالک نے افغانستان کو جدید اسلحہ، جیٹ طیارے اور بھاری توپ خانہ فراہم کیا—جس سے پاکستان کے لیے خطرات بڑھنے لگے۔ 1960 کی دہائی میں تو افغان فوجی باجوڑ تک گھس آئے تھے، مگر پاک فوج نے انہیں واپسی پر مجبور کر دیا۔

بھٹو ان تمام بدلتے حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے تھے۔ پھر 17 جولائی 1973 کو، یورپ میں چھٹیوں کے دوران، ان کے سامنے یہ خبر آئی کہ داؤد خان نے اپنے کزن کو ہٹا کر اقتدار سنبھال لیا ہے۔ ظاہر شاہ کو خاندان سمیت روم بھیج دیا گیا۔ داؤد نے ظاہر شاہ کا آئین ختم کرکے لویا جرگہ قائم کیا—ایک ایسی اسمبلی جس کے ارکان حکومت نامزد کرتی۔ پھر ایک بار پھر ’’پشتونستان‘‘ کے خواب کو تیز رفتاری سے آگے بڑھایا۔ اس مقصد کے لیے سخت گیر پشتون عناصر کے ذریعے پاکستان میں پراکسی جنگ چھیڑی گئی، جس کے نتیجے میں افغان شدت پسند پاکستان میں داخل ہونے لگے۔بھٹو نے وقتی طور پر خاموشی اختیار کی لیکن جانتے تھے کہ داؤد کی حکومت میں نور محمد ترکئی اور ببرک کارمل جیسے سخت گیر کمیونسٹ طاقت پکڑ رہے ہیں۔ پھر بھی انہوں نے بات چیت کا راستہ نکالنے کی کوشش کی۔

اسی دوران بھٹو نے یہ مناسب سمجھا کہ پہلے ماسکو سے مکالمہ کیا جائے۔ 22 اکتوبر 1973 کو وہ سوویت یونین کے تین روزہ دورے پر ماسکو پہنچے، جہاں لیونڈ بریژنیف اور دیگر سوویت رہنماؤں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ نئی افغان قیادت سوویت بلاک کا حصہ بن چکی تھی، اس لیے اس مرتبہ ماسکو کا رویہ بھٹو کے لیے پہلے سے زیادہ حوصلہ افزا تھا۔نئے سال کے بعد داؤد خان نے سوویت انحصار کم کرنے کی کوشش کی اور ایران، سعودی عرب اور مغربی دنیا سے تعلقات بڑھانا شروع کیے۔ جون 1974 میں بھٹو کابل گئے اور داؤد سے خطے کے امن پر بات چیت کی—جسے پورے برصغیر میں امن پسند حلقوں نے خوش آئند قرار دیا۔مگر افغانستان کے اندر حالات یکسر بدل رہے تھے۔ اپریل 1978 میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما میر اکبر خیبر پر پراسرار حملے نے ملک میں سیاسی آگ لگا دی۔ داؤد خان قاتلوں کو پکڑنا چاہتے تھے، مگر ان کے مخالفین پہلے ہی حرکت میں آ چکے تھے۔ 27 اپریل کو افغان فوج کے دستوں نے صدارتی محل کا محاصرہ کر لیا، اور اگلے روز—28 اپریل—داؤد خان اور ان کا پورا خاندان قتل کر دیا گیا۔ سرکاری اعلان میں صرف اتنا بتایا گیا کہ نور محمد ترکئی نے اقتدار سنبھال لیا ہے۔

یوں داؤد خان کے ساتھ افغانستان میں سیاسی شرکت کے امکانات کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا—اور ’’گریٹر پشتونستان‘‘ کا خواب بھی ٹوٹ کر بکھر گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں