جب خوشحال خان خٹک سوات آئے، تو ان کے دل میں ایک ہی ارادہ تھا—
کہ سوات کے یوسف زئی قبائل کو مغلوں کے خلاف ایک جھنڈے تلے جمع کیا جائے۔
حالانکہ کچھ عرصہ پہلے ان کے والد اور یوسف زئیوں کے درمیان سخت اختلافات گزر چکے تھے، مگر وقت کے ساتھ وہ دوریاں مٹ چکی تھیں۔
خوشحال خان پھر ایک بار سوات کی سرزمین پر اُترے۔
انہوں نے میانا، سیدانوا اور دیگر قبائل سے ملاقاتیں کیں۔
لیکن قسمت شاید ان کے ساتھ کوئی اور کہانی لکھ رہی تھی۔
قبائل کی مدد حاصل کرنے کی بجائے وہ مذہبی اختلافات میں الجھ گئے۔
ان کی بحثیں اخوند درویزہ بابا اور ننگرئی کے میاں نور بابا تک جا پہنچیں۔
بات دین سے پیشے تک، اور اختلاف سے لے کر کھلی مباحثے تک جا پہنچی۔
سوات کے چھوٹے قبائل اس صورتحال سے گھبرا کر ایک ایک کر کے پیچھے ہٹ گئے۔
آخرکار خوشحال خان کو سوات چھوڑ کر بَرمول (مردان) جانا پڑا۔
وہیں انہوں نے اپنی نظم میں لکھا:
“جب میں بَرمول میں تھا، سنہ 1086 ہجری، تب یہ اشعار کہے…”
اور یہی زمانہ تھا، جولائی 1675 کا، جب ان کی زندگی میں محبت، سیاست اور دشمنی— تینوں رنگ ایک ساتھ ظاہر ہوئے۔
سوات کی دو خوبصورت چیزیں
خوشحال خان ایک جگہ اپنی نظم میں سوات سے متعلق کہتے ہیں:
“سوات میں دو چیزیں بے مثال ہیں:
ایک حسن… اور ایک کافر حسین!”
یہ الفاظ سننے والا مسکرا اٹھتا ہے، مگر یہ وہی دل ہے جس نے جنگیں بھی دیکھیں اور محبت بھی۔
کون تھیں وہ بہنیں؟ کون تھا وہ رشتہ؟
یہ اصل معمہ ہے۔
خوشحال خان نے اپنے اشعار میں بارہا “بہنوں” اور “محبوبہ” کا ذکر کیا ہے، جنہیں مختلف مصنفین اپنی اپنی تحقیق کے مطابق کسی نہ کسی طرف منسوب کرتے ہیں۔
مگر ایک شعر تو بہت واضح ہے:
“مالو خان! تم نے میری شادی کے معاملے میں مجھے خوش کر دیا،
تم نے صدر خان کی ماں کو میرے گھر پہنچا دیا”
اس شعر پر انگریز محقق ریورٹی بھی لکھتا ہے کہ:
“مالو خان نے خوشحال خان کی شادی اپنی بھتیجی (یا بیٹی) سے کرائی،
جو بعد میں ان کے بیٹے صدر خان کی ماں بنی۔”
کیا شادی ٹانڑہ کے خان خیل میں ہوئی؟
ریورٹی، شاہباز محمد، شرف الزمان اور دیگر مورخین تقریباً ایک ہی قصہ دہراتے ہیں:
ٹانڑہ گاؤں کا بانی حمزہ خان تھا۔
مالو خان اسی خاندان کا فرد تھا۔
خوشحال خان نے اسی خاندان کی ایک لڑکی سے شادی کی۔
وہ لڑکی بعد میں ان کے بیٹے صدر خان کی ماں بنی۔
یہ بات اتنی بار لکھی گئی کہ اب یہ تاریخ سے زیادہ داستان محسوس ہوتی ہے۔
کچھ تضاد بھی…
سوات کے بزرگ محقق شیر افضل باریکوٹی کہتے ہیں:
“خوشحال خان کی شادی مالو خان کی بہن سے ہوئی تھی۔”
مگر ان کے بیان میں کئی تضادات بھی نکلتے ہیں۔
کچھ مصنف کہتے ہیں کہ وہ لڑکی حمزہ خان کی بیٹی تھی،
کچھ کہتے ہیں مالو خان کی بہن،
کچھ کہتے ہیں سامائل خیل کی شاخ سے تعلق رکھتی تھی۔
قبائل کی زمینوں اور خاندانی شجروں کے اختلافات نے اس کہانی کو اور بھی الجھا دیا۔
ہر خاندان نے اپنی اپنی طرف سے اس داستان میں اپنا کردار شامل کر دیا۔
خواتینِ ٹانڑہ کی شاندار تاریخ
ٹانڑہ کے خان خیل خاندان کی عورتیں محض گھر تک محدود نہ تھیں۔
ان میں سے:
ایک بابر بادشاہ سے منسوب
ایک سوات کے سلطان اویس گبری سے
ایک اخوند درویزہ بابا سے
اور ایک میاں نور بابا کے خاندان سے جڑی نظر آتی ہے
تو ایسی خواتین کے درمیان اگر خوشحال خان کا رشتہ جڑ جائے…
تو حیرت کیسی؟
آخر میں سچ کیا ہے؟
سچ یہ ہے کہ:
خوشحال خان سوات آئے، یہ تاریخی حقیقت ہے۔
ان کے سوات میں تعلقات، محبتیں اور دشمنیاں سب حقیقت ہیں۔
ان کی شادی ٹانڑہ خان خیل میں ہوئی، اس کے بہت مضبوط شواہد ملتے ہیں،
مگر مکمل وضاحت کبھی نہ مل سکی۔
اور اسی لیے لوگ کہتے ہیں—
سچ بھی ہے… اور داستان بھی۔
کیونکہ خوشحال خان کی زندگی ویسے بھی ہوا کی طرح آزاد اور دریا کی طرح بے کنار تھی۔




