شجاعُ الدولہ اور واجد علی شاہ کے عہد کا لکھنؤ محض ایک شہر نہ تھا، ایک خواب تھا—جس میں رنگ، راگ، حسن اور نزاکت نے تہذیب کی رگوں میں شہد گھول دیا تھا۔ شاہی عیش پسندی نے طوائفیت کی ان گنت شاخوں کو یوں پروان چڑھایا کہ رقص و نغمہ ایک فن سے بڑھ کر طرزِ زیست بن گیا۔ چکلے کی مخصوص تہذیب اور اربابِ نشاط کے نازک مزاج تمدن نے زندگی کو ایسی لطافت عطا کی کہ مسلمان فرمانرواؤں کی تاریخ میں اس درجے کا عروج شاید ہی کہیں اور دکھائی دے۔
شجاعُ الدولہ، نواب صفدر جنگ کا فرزند، جب انگریزوں سے مصالحت کے بعد فیض آباد کی طرف روانہ ہوا تو احمد خاں بنگش کی تین نصیحتیں اس کے ہمراہ تھیں: مغلوں پر بھروسا نہ کرنا، فیض آباد کو دارالحکومت بنانا، اور خواجہ سراؤں کو اقتدار کے ایوانوں میں جگہ دینا۔ شجاعُ الدولہ نے یہ تینوں باتیں دل پر نقش کر لیں۔ سب سے پہلا انقلاب اس نے یہ برپا کیا کہ فوج کی باگ ڈور خواجہ سراؤں کے سپرد کر دی۔ سرخ وردی میں ملبوس چودہ ہزار سپاہیوں کا ایک عظیم دستہ، لبنت علی خاں کی قیادت میں، دربار کی شان بڑھاتا تھا۔ گھڑ سوار دستے، منظم پلاٹونیں، اور خوش خو، خوش پرو خواجہ سرا—یہ سب شجاعُ الدولہ کے عسکری نظام کا حصہ بن گئے۔ اس کا دربار بھی زنانہ و مردانہ خواجہ سراؤں سے آراستہ رہتا، جیسے اقتدار نے خود کو نزاکت کے سپرد کر دیا ہو۔
مورخین لکھتے ہیں کہ شجاعُ الدولہ کا دل حسن اور رقص کی طرف بے اختیار کھنچتا تھا۔ شہر کی گلیاں، بازار اور کوچے اس کی دل آویزی کے گواہ تھے۔ جہاں بادشاہ جاتا، محفلیں اس کے قدم چومتی تھیں۔ طوائفوں کے ڈیرے، ساز و سرود کی محفلیں، اور رقص کے آنگن—سب اس کے ہمراہ سفر کرتے۔ یوں لکھنؤ ایک چلتا پھرتا میخانۂ فن بن گیا، جہاں لمحوں میں محفل سجتی اور نغمہ فضا میں گھل جاتا۔واجد علی شاہ کے زمانے میں شجاعُ الدولہ کا لگایا ہوا یہ پودا تناور درخت بن گیا۔ یہاں تک کہ واجد علی شاہ اور لہو و لعب گویا ہم معنی ہو گئے۔ وہ بچپن ہی سے حسن و نغمہ کی گود میں پلا، اور جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی اس کی دنیا رقص، موسیقی اور نزاکت کے حصار میں آ گئی۔ تخت نشینی کے ساتھ ہی اس نے فوج تک کو جمالیاتی ذوق کا لباس پہنا دیا—رسالوں کے نام ناز و انداز سے رکھے گئے، اور پلٹنیں مشہور رقاصاؤں کے ناموں سے پہچانی جانے لگیں۔
واجد علی شاہ کے نزدیک حسن محض کشش نہیں، ایک عقیدہ تھا۔ جس عورت پر اس کی نظرِ التفات پڑتی، وہ دربار کے دائرے میں آ جاتی، القابات پاتی اور شاہی سرپرستی کا حصّہ بنتی۔ ایک فقیرنی ہو یا کوئی عام عورت—اس کی عنایت نے سب کو نوابی رنگ عطا کیا۔ ان معاملات میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ وہ مسلمان فرمانرواؤں میں پہلا بادشاہ تھا جس نے خوبصورت عورتوں کی ایک باقاعدہ جماعت ترتیب دی—گویا حسن بھی ایک لشکر بن گیا ہو۔آج کی فوجوں میں نظر آنے والے زنانہ دستے شاید اسی روایت کی بازگشت ہیں۔ اس کا وزیر علی نقی خاں بھی اربابِ نشاط میں شمار ہوتا تھا، اور اس کی بیٹی اختر محل، شاہی ملکہ کے منصب تک پہنچی۔ دربار میں رہنے والی عورتوں کے لیے الگ الگ جماعتیں قائم تھیں، جن کے نام ان کی خصوصیات پر رکھے گئے: رادھا منزل والیاں، جھومر والیاں، گھونگھٹ والیاں، نقل والیاں—ہر نام اپنے اندر ایک پوری دنیا سمیٹے ہوئے تھا۔
ان میں سے اکثر سلطان خانہ کے قرب میں رہتیں، بعض کو علیحدہ کوٹھیاں اور محل سرائیں عطا ہوتیں۔ جن کے ہاں اولاد ہوتی، وہ “محل” کہلاتیں، اور باقی “بیگم” کے لقب سے نوازی جاتیں۔ تنخواہیں، رہائش، لباس—سب شاہی فیاضی کا عکس تھے۔ یوں لکھنؤ کے ایوانوں میں حسن، اختیار اور سرپرستی ایک دوسرے میں گھل مل گئے، اور تاریخ نے ایک ایسے عہد کو محفوظ کر لیا جو آج بھی رومان، رنگینی اور نزاکت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔




