27 دسمبر 2007 — ایک ایسا سانحہ جس نے پاکستان کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا سماج اور ریاست دونوں اپنی بنیادی ذمہ داری میں ناکام رہے: محترمہ بے نظیر بھٹو کی حفاظت۔ اس حقیقت کے باوجود کہ حکومت کو بخوبی علم تھا کہ محترمہ کی جان کو حقیقی اور شدید خطرات لاحق ہیں، جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے انہیں نہایت ناکافی اور معمولی سیکورٹی فراہم کی۔ ریاست، خطرے سے مکمل آگاہی کے باوجود، فوج یا آئی ایس آئی کا باقاعدہ حفاظتی دستہ فراہم کرنے میں ناکام رہی اور انہیں عام سویلین سیکورٹی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا، جو اس سطح کے خطرات سے نمٹنے کی اہل نہ تھی۔
پیپلز پارٹی کے نام نہاد محافظ نہ تو پیشہ ورانہ تربیت رکھتے تھے اور نہ ہی ہنگامی اور جان لیوا حالات سے نمٹنے کی صلاحیت۔ رحمٰن ملک سیکورٹی کے انچارج تھے، مگر بم دھماکے کی آواز سن کر دوسری بلٹ پروف گاڑی فوراً واپس لانے کے بجائے کہیں اوجھل ہو گئے۔ اس لمحے محترمہ بے نظیر بھٹو مکمل طور پر بے یار و مددگار رہ گئیں۔
محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل میں کسی ایک ادارے کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا؛ اس سانحے میں ہمارا پورا سماج اور ریاست شریکِ جرم ہیں۔ ہر وہ ادارہ جس پر ذمہ داری عائد ہوتی تھی، اس نے اپنا فرض ادا نہیں کیا۔ عدالتوں نے اس مقدمے کو وہ ترجیح نہ دی جس کا یہ مستحق تھا۔ گواہوں نے گواہی دینے سے انکار کر دیا اور انصاف خاموشی اختیار کر گیا۔پیپلز پارٹی نے بھی اس مقدمے کی وہ سنجیدہ اور بھرپور پیروی نہ کی جس کی اس ہولناک جرم کے بعد توقع کی جاتی تھی۔ یوں ایک مردہ اور بے حس معاشرے میں ہر فرد اس بات کا ذمہ دار ہے کہ اتنی بڑی موت کے مجرموں کا تعین نہ ہو سکا۔
اگر ہم تصور کریں کہ یہ حادثہ پیش نہ آتا اور سیکورٹی محترمہ پر ہونے والے دوسرے حملے کو ناکام بنا دیتی، تو محترمہ الیکشن جیت کر وزیر اعظم بن جاتیں۔ وہ دنیا بھر میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک رزمیہ کردار کے طور پر ابھرتیں۔ مذہبی انتہا پسندی کے خلاف برسوں سے برتا جانے والا تساہل اور بیانیے کا انتشار ان کی قیادت میں دم توڑ دیتا۔ وہ کامیابیاں جو ہم نے برسوں میں آہستہ آہستہ حاصل کیں، شاید ہم مہینوں میں سمیٹ لیتے۔اگر بے نظیر بھٹو زندہ ہوتیں تو پاکستان پر طالبان اور انتہا پسندوں کی درپردہ حمایت کے الزامات نہ لگتے۔ انتہا پسندوں کے خلاف کامیابی کے بعد وہ دنیا بھر کے دورے کرتیں، پاکستان کی خوشحالی کے لیے عالمی امداد اور گرانٹس حاصل کرتیں۔ پاکستان کا بیانیہ وہی ہوتا جو آج ملالہ یوسفزئی کے ذریعے دنیا کے سامنے ہے۔ مگر ملالہ کی رہنما محترمہ بے نظیر بھٹو کو وہ مقبولیت کہیں بڑھ کر حاصل ہوتی۔
اگر محترمہ کی آخری کتاب “مفاہمت” کے فلسفے پر عمل کیا جاتا تو تہذیبوں کا تصادم ختم ہو سکتا تھا۔ حتیٰ کہ انتہا پسند عناصر کو بھی قومی دھارے میں لایا جا سکتا تھا۔ پاکستان کے تناظر میں، اگر افغانستان میں امن قائم ہو جاتا، وہاں ایک مستحکم حکومت وجود میں آتی اور بھارت کے ساتھ امن معاہدہ ہو جاتا تو پورا خطہ خوشحالی کی راہ پر کہیں زیادہ تیزی سے گامزن ہو جاتا۔اگر پاکستانی فوج اور عوام ایک صف میں کھڑے ہوتے تو جمہوریت مضبوط ہوتی۔ ادارے آئین کی بالادستی میں مستحکم ہوتے اور آج پاکستان دنیا کے جمہوری ممالک کی صفِ اول میں کھڑا ہوتا۔
مگر افسوس، گزشتہ 78 برسوں سے ہماری خوش فہمیاں حقیقت کا روپ نہ دھار سکیں۔ ہر بار جب ایک خوشحال اور جمہوری پاکستان کا خواب قریب آتا ہے، کوئی نہ کوئی سانحہ اسے ہم سے بہت دور دھکیل دیتا ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت بھی ایسا ہی سانحہ تھی، جس نے واحد جمہوری، لبرل اور دوراندیش قیادت کو ہم سے چھین لیا۔اسلامی دنیا کی سب سے مقبول رہنما، محترمہ بے نظیر بھٹو، عالمِ اسلام میں لبرل سوچ کی علامت تھیں۔ ان کے بعد غریبوں اور مزدوروں کے لیے آواز بلند کرنے والا کوئی نہ رہا۔ میڈیا کی آزادی اور عدالتی فیصلوں پر سوال اٹھانے والا کوئی نہ رہا۔ پاکستان کی غلط خارجہ پالیسیوں اور اسٹریٹجک غلطیوں کو روکنے والا کوئی نہ رہا۔
27 دسمبر 2007 کو پاکستان نے صرف ایک رہنما نہیں کھویا تھا—
پاکستان نے اپنا ضمیر کھو دیا تھا۔




