1977ء کے عام انتخابات پاکستان کی انتخابی تاریخ کے متنازع اور تاریک ابواب میں شمار ہوتے ہیں، جہاں انتخابی عمل کی شفافیت کو منظم انداز میں پامال کیا گیا۔ پشین کے حلقے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار یحییٰ بختیار کی کامیابی عوامی رائے کا نتیجہ کم اور اعلیٰ انتظامی احکامات کا ثمر زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ دستیاب شواہد کے مطابق 8 مارچ 1977ء کو پشین سکاؤٹس فورٹ میں خالی بیلٹ پیپروں پر انگوٹھے لگوا کر انتخابی نتائج کو مصنوعی طور پر یحییٰ بختیار کے حق میں موڑا گیا، جو انتخابی ضابطوں کی صریح خلاف ورزی تھی۔
یہ تمام کارروائی کمشنر کوئٹہ کی ہدایت پر انجام دی گئی، جو ریاستی مشینری کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کی واضح مثال ہے۔ قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ ریٹرننگ آفیسر محمد افضل نے اس دھاندلی کی مخالفت کی اور ضمیر کے تقاضے کے تحت 8 مارچ 1977ء کو کوئٹہ چھوڑ دیا۔ ان کا یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ انتخابی عمل میں مداخلت محض نچلی سطح پر نہیں بلکہ اعلیٰ انتظامی سطح پر منصوبہ بندی کے ساتھ کی گئی۔
محمد افضل کی علیحدگی کے بعد ایک ایس ڈی او، منظور حسین، کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ دھاندلی کے ذریعے یحییٰ بختیار کی کامیابی کو یقینی بنائے۔ مزید برآں، پشین سکاؤٹس فورٹ میں جعلی بیلٹ پیپرز کی تیاری کے وقت کمشنر کوئٹہ مرزا منور، اسسٹنٹ کمشنر پشین نیر آغا محمد اعظم، متعدد تحصیلداروں اور دیگر انتظامی افسران کی موجودگی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ دھاندلی انفرادی نہیں بلکہ ادارہ جاتی سطح پر کی گئی۔
جعلی ووٹوں سے بھرے بیلٹ بکسوں کو تبدیل کر کے سیل کرنا اور انہیں 9 مارچ کی رات تک قلعے میں رکھنا، پھر بعد ازاں ڈی سی آفس منتقل کرنا، انتخابی امانت میں صریح خیانت کے مترادف تھا۔ اس پورے واقعے نے نہ صرف عوام کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا بلکہ جمہوری عمل کی بنیادوں کو بھی متزلزل کیا، جس کے اثرات طویل عرصے تک ملکی سیاست میں محسوس کیے جاتے رہے۔




