“بھٹو کی پھانسی… مہرے کون تھے، بادشاہ کون؟ ایک چھپی ہوئی داستان

1977 کی ایک خاموش مگر بھاری شام تھی۔ سیاسی آندھیاں ملک کے در و دیوار ہلا رہی تھیں۔ اسلام آباد کے ایوانِ اقتدار میں ہوا ساکن تھی، جیسے وقت خود کسی فیصلے کا منتظر ہو۔ اور دوسری طرف، راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے اندر ذوالفقار علی بھٹو اپنے مستقبل کے دھندلائے ہوئے راستے کو ٹٹول رہے تھے۔انہی دنوں واشنگٹن کے ایک دفتر میں ایک ٹیلی گرام ٹائپ ہو رہا تھا۔ امریکی سفیر آرتھر ہمل نے لکھا:“جنرل ضیا نے کہا ہے کہ بھٹو کی گرفتاری ریاستی مفاد میں ہے… اور انہیں اس پر ملک میں کوئی بڑا ردِعمل نظر نہیں آتا۔”یہ پیغام بھیجا گیا، مگر اس کے پیچھے آنے والے مہینوں نے دنیا کو ایک ایسے سیاسی کھیل میں دھکیل دیا جس کے کھلاڑی سامنے نہیں، پردوں کے پیچھے تھے۔
بھٹو کی گرفتاری کا اعلان
تین ستمبر 1977 کی صبح، کراچی کے آسمان میں ہلکی نمی تھی۔ ریڈیو پاکستان کی آواز مکانوں کے اندر ٹھنڈی ہوا کی طرح گھس رہی تھی:“سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو نواب محمد احمد خان کے قتل کیس میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔”اسی وقت امریکی سفارتخانے کے آفس میں ہمل اپنے سٹاف سے کہہ رہے تھے:“ضیا نے خود بتایا ہے… کیس نجی ہے، عدالتوں میں چلے گا… لیکن بھٹو؟ بھٹو اہم آدمی ہیں۔”ایک طرف گرفتاری، دوسری طرف ضیاالحق کے اعتماد کا عجب دعویٰ۔کہیں کچھ بہت بڑا ہونے والا تھا۔
ضیا کا خفیہ فیصلہ — فوجی عدالتیں
چند دن بعد، 17 ستمبر کی شام۔ ہمل ایک اور ٹیلی گرام لکھتے ہیں۔ ضیا نے ان سے کہا تھا:“بھٹو کا کیس اب فوجی عدالت میں چلے گا، فیصلہ انتخابات سے پہلے آ جائے گا۔”ضیا میز پر جھکتے ہوئے کہتے:“میں غیرجانبدار ہوں۔ مگر بھٹو کے زمانے میں ملک کے ادارے تباہ ہوئے۔ عوامی پیسہ ضائع ہوا۔ ان کا ٹرائل کروانا ضروری ہے۔”ہمل نے یہ سب سفارتخانے کو رپورٹ کرتے ہوئے لکھا:“مارشل لاء حکومت بھٹو کی عوامی طاقت سے خوفزدہ ہے۔ وہ اسے دوبارہ سیاست میں قدم رکھنے نہیں دینا چاہتے۔”یوں تاریخ نے دھیرے دھیرے اپنا دھاگہ بُننا شروع کیا۔
عدالتوں کے سائے اور بڑھتی کشمکش
لاہور ہائی کورٹ میں مقدمہ چل رہا تھا۔ جج، گواہ، وکلا—سب بھاری فضا میں گھِرے ہوئے۔ 18 مارچ 1978 کی صبح 8:20 پر کمرہ عدالت کی خاموشی چیرتے ہوئے چیف جسٹس مشتاق حسین نے فیصلہ سنایا:
“ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت…”
لفظ جیسے دیواروں سے ٹکرا کر واپس سنائی دے رہے تھے۔بھٹو پرسکون کھڑے رہے۔ مگر باہر، دنیا بدل چکی تھی۔
امریکہ، چین، سعودی عرب — خاموش سفارتکاری کی جنگ
بھٹو کی جان بچانے کے لیے دنیا بھر میں سرگوشیاں شروع ہو گئیں۔امریکی سفیر ہمل شاہ نواز کے دفتر میں بیٹھے بولے:“بھٹو کی پھانسی کو امریکہ میں بہت برا سمجھا جائے گا۔ اسے روکنا چاہیے۔”چینی سفیر نے ہمل کو بتایا:
“سزا مناسب نہیں۔ لیکن ہم نہیں جانتے کہ پاکستان کو کیسے کہا جائے…”بیجنگ میں ڈینگ شیاؤ پنگ نے برزینسکی سے ملاقات میں کہا:“اگر بھٹو آنا چاہیں… ہم انہیں چین میں پناہ دینے کو تیار ہیں۔”دنیا ایک شخص کی زندگی بچانے کے لیے حرکت میں تھی، مگر اسلام آباد کے ایوانوں میں دروازے بند تھے۔
: ضیا کی ضد، بھٹو کا مقدر
ضیا کا خیال تھا کہ بھٹو سوویت یونین کے قریب ہو رہے تھے۔ انہوں نے ہمل کو بتایا:“بھٹو نے لیبیا کے ذریعہ روس سے روابط بڑھانے کی کوشش کی۔ یہی وجہ تھی کہ مجھے فیصلہ کرنا پڑا…”ہمل نے واشنگٹن کو جواب دیا:“ہمیں معلوم ہے سوویت سفیر بھٹو سے رابطے میں تھا، مگر ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ بھٹو سوویت کی طرف جا رہے تھے… یہ ضیا کا جواز ہو سکتا ہے۔”مگر ضیا کا ذہن بن چکا تھا۔
آخری خطوط، آخری اپیلیں
صدر کارٹر نے ایک خط ضیا کو لکھا:آپ کی طرف سے بھٹو کی جان بخشی کا فیصلہ انسانیت، شرافت اور حکمت کا مظہر سمجھا جائے گا…”پیغام پہنچا دیا گیا۔ مگر جواب نہ آیا۔24 مارچ کو سپریم کورٹ نے بھٹو کی نظرثانی کی اپیل مسترد کر دی۔امریکی سفارتخانے نے واشنگٹن کو لکھا:“صدر ضیا نے فیصلہ کر لیا ہے… بھٹو کی جان بچنے کی امید نہیں.”اسلام آباد کی راتیں غیر معمولی خاموش تھیں۔ جیسے شہر پر کوئی پردہ ڈال دیا گیا ہو۔
موت کی دستک
3 اپریل کی رات بھٹو نے آخری بار اپنے سیل کا دروازہ بند ہوتے دیکھا۔چند گھنٹے بعد، علی الصبح، 4 اپریل 1979…پردے ہٹ گئے۔ملکی تاریخ کا سب سے سیاہ صفحہ تحریر ہوا۔ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔دنیا بھر میں ٹھنڈ سی پڑ گئی۔نہ احتجاج کی چیخیں، نہ غصے کا طوفان—بس حیرت، صدمہ اور خامشی۔
بھٹو کے بعد کا پاکستان
برزینسکی نے کارٹر کو لکھا:
“پاکستان پرسکون ہے… عجیب پرسکون۔ جیسے کوئی طوفان گزر چکا ہو مگر نشان باقی ہوں۔”اسلام آباد، لاہور، کراچی—سب خاموش تھے۔مگر تاریخ کے صفحات میں وہ چیخ آج بھی گونجتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں