ماؤنٹ بیٹن کی خفیہ زندگی: ایف بی آئی کی فائلوں نے ہلا کر رکھ دیا

ذرا تصور کیجیے… تاریخ کے سنہرے اوراق پر کندہ ایک ایسا نام، جسے دنیا نے ہیرو سمجھا — ایک ذہین جرنیل، ایک بے خوف کمانڈر، ایک شاہی شخصیت کے قریب ترین فرد۔
ارڈ لُوئس ماؤنٹ بیٹن… وہ شخص جو دوسری جنگِ عظیم میں اتحادی افواج کی قیادت کرتے ہوئے جیت کا استعارہ بنا۔ آزادی کے بعد بھارت نے بھی جسے اپنا پہلا گورنر جنرل بنانے کی پیشکش کی۔
پرنس فلپ کا چچا… اور نوجوان چارلس کا سب سے بھروسے کا مشیر۔ لیکن…کبھی کبھی تاریخ کے دروازے اچانک کھلتے ہیں—اور اندر سے ایسی سچائیاں باہر آتی ہیں جو برسوں سے چھپی چنگاریوں کی طرح سلگ رہی ہوتی ہیں۔ایف بی آئی کی ڈی کلاسیفائیڈ فائلیں… اور تازہ انٹرویوز… ایک ایسا پردہ ہٹا رہے ہیں جس کے پیچھے ماؤنٹ بیٹن کی شخصیت کا ایک خفیہ، تاریک اور چونکا دینے والا پہلو چھپا ہوا تھا۔
ان دستاویزات کے مطابق…
یہ جنگی ہیرو اپنی نجی زندگی میں ایک بے قابو خواہشات رکھنے والا شخص تھا — جس کی دوہری جنسی رغبت برسوں تک امریکی انٹیلیجنس کی رپورٹس میں درج ہوتی رہی۔اینڈریو لاؤنی کی تحقیق نے تو یہ تہہ ہلا دینے والے نکات سامنے رکھ دیے کہ:“ماؤنٹ بیٹن کی زندگی… دکھائی دینے والی زندگی نہیں تھی۔ اس کے نیچے ایک اور دنیا تھی — خفیہ، لرزہ خیز اور غیر متوقع.”1979 — بم دھماکے کے بعد ابھرنے والی سرگوشیاں ماؤنٹ بیٹن کی موت کے بعد افسانوں، افواہوں اور نیم تاریک یادوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔لوگ سرگوشیوں میں کہتے کہ:“ایڈوِینا اور میں نے شادی شدہ زندگی دوسروں کے بستروں میں گزاری…”یہ جملہ خود ماؤنٹ بیٹن نے کہا تھا۔ایڈوِینا کے معاشقے تو مشہور تھے… مگر ماؤنٹ بیٹن کی نجی سمت ہمیشہ دھند میں لپٹی رہی۔ان کی سرکاری سوانح عمری میں تک لکھا گیا کہ:
“یہ کہنا کہ ماؤنٹ بیٹن ہم جنس پرست نہیں تھے… شواہد کے خلاف ہے۔”ایف بی آئی فائلز — 30 سال پر محیط ایک لرزہ خیز داستان . پہلی رپورٹ: فروری 1944۔
ماؤنٹ بیٹن ابھی اتحاد کی فوجوں کے سپریم کمانڈر بنے ہی تھا.نیویارک میں بیٹھا ایف بی آئی چیف، ای۔ ای۔ کونرائے، ایک ایسی رپورٹ پر دستخط کرتا ہے جس میں ایک شاہی خاندان کی قریبی خاتون — بارونس ڈیسِس — کہتی ہیں:“لارڈ ماؤنٹ بیٹن ہم جنس پرست ہیں… اور انہیں کم عمر لڑکوں سے غیر معمولی دلچسپی ہے۔ ایسے شخص کو فوجی کمان نہیں سونپنی چاہیے.”یہ بیان صرف ایک الزام نہیں…
یہ اس دھند میں سے جھلکنے والی پہلی روشنی تھی جس نے ایف بی آئی کو اگلے بیس تیس برس تک ماؤنٹ بیٹن کی نگرانی پر مجبور رکھا۔ایڈوِینا کے بارے میں بھی کہا گیا کہ وہ شدید غیر متوازن مزاج کی تھیں۔گواہان… جنہوں نے برسوں بعد زبان کھولی

اینڈریو لاؤنی کی تحقیق کے مطابق:
ایک سابق محافظ نے کہا:“لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو نوجوان مرد پسند تھے۔ خاص طور پر وردی میں… یونیفارم ان کی کمزوری تھی۔”کچھ پرانے دوست سرگوشیوں میں کہتے:
“وہ تعلقات رکھتے تھے… لیکن کبھی سامنے نہیں آنے دیتے تھے۔ سب کچھ ہمیشہ پردے کے پیچھے ہوتا تھا…”

ایف بی آئی کی خفیہ رپورٹ — سب سے ہولناک جملہ

ایک ڈی کلاسیفائیڈ فائل میں لکھا ہے:

“Lord Louis Mountbatten was a homosexual with a perversion for young boys.”

یہ جملہ تاریخ کی سب سے طاقتور شخصیات میں سے ایک پر گرتا ہوا ایک بجلی کا کڑکا تھا۔کئی رپورٹس تو یہاں تک اشارہ کرتی ہیں کہ برطانوی حکومت نے بعد میں کچھ حساس فائلیں آفیشلی تباہ کروائیں… تاکہ شاہی خاندان پر کوئی داغ نہ لگے۔ایڈوِینا اور ماؤنٹ بیٹن — ایک ایسی شادی جس میں رازوں کی دیواریں تھیں یہ ایک “اوپن میرج” تھی۔دونوں اپنے اپنے راستوں پر… اپنے اپنے تعلقات کے ساتھ۔ایڈوِینا کے معاشقے مشہور تھے، جن میں نہرو کے ساتھ ان کی قربت سب سے نمایاں۔ان کے بچے بھی اسے مانتے ہیں۔

ماؤنٹ بیٹن کے رشتے…
عورتوں کے ساتھ تو ظاہر ہیں،
لیکن مردوں کے ساتھ…
یہ کہانیاں زیادہ تر گواہیوں، رازدارانہ ملاقاتوں اور خفیہ رپورٹس میں محفوظ ہیں۔

آخر سچ کیا ہے؟

کچھ بھی واضح نہیں۔
کوئی حتمی ثبوت نہیں — بس واقعات، گواہیوں، سرگوشیوں اور ڈِی کلاسیفائیڈ دستاویزات کا ایک طویل سلسلہ۔

لیکن ایک بات یقینی ہے:
ماؤنٹ بیٹن وہ شخص ہرگز نہیں تھا… جسے دنیا نے ہمیشہ سمجھا۔

اس کی شخصیت کا ایک خفیہ حصہ…
وقت کے اندھیرے میں چھپا رہا —
اور اب جب فائلیں کھل رہی ہیں…
تو تاریخ کی آنکھ حیرت سے پھیلتی چلی جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں