خاموش دھنیں، ٹوٹے خواب: نجيب اللہ خطاب کی کہانی

جب بھی پاکستان میں نجيب اللہ خطاب کا ذکر ہوتا ہے، ان کی یاد ایک درد بھری داستان کے طور پر دلوں میں اُبھرتی ہے۔ وہ افغان گلوکار، جو بشیر چوک، ترکمان کالونی، کوئٹہ میں رہتے تھے، اپنی آواز کے ذریعے ایک پورے شہر کی روح کو چھو گئے۔ ان کا نام، ان کی آواز، اور ان کی زندگی شہر کی گلیوں میں بس گئی، جیسے ایک خاموش شکوہ جو ہر کونے میں سنائی دیتا ہو۔ وہ خاندان کے ساتھ آئے تھے جو 46 سال پہلے وطنِ عزیز چھوڑ کر یہاں پناہ لینے آیا، اور اپنے اس نئے وطن میں اپنی جوانی کی ہر خوشی اور غم سہتے ہوئے جیا۔ یہ کہانی ہے ایک ایسے گلوکار کی، جس کی ہر دھن میں افغان مہاجرین کی امیدیں، درد، جدوجہد اور یادیں چھپی ہیں۔ 1980 کی دہائی میں سوویت–افغان جنگ کے خوفناک سایے میں لاکھوں افراد نے اپنا وطن چھوڑ کر پاکستان کی طرف رُخ کیا، اپنی زندگی کے آہ و فغان کے ساتھ، ایک نیا آغاز تلاش کرتے ہوئے۔ آج بھی تقریباً 2.8 ملین افغان یہاں کی خاک کو اپنا گھر مانتے ہیں، جن میں سے 1.3 ملین صرف سرکاری کاغذات میں موجود ہیں۔ اور 2023 میں جب پاکستان نے غیر دستاویزی مہاجرین کو واپس بھیجنا شروع کیا، تو یہ ایک تلخ یاد دہانی ہے کہ سرحدیں اور پالیسیاں انسان کے خواب، امیدیں، اور چھپی ہوئی دعائیں کس طرح روند سکتی ہیں۔
یہ ایک ایسی داستان ہے جس میں ہر لمحہ غم اور جدائی کی گونج ہے، ایک آواز جو کبھی اپنے وطن کی زمین سے جڑی رہی اور کبھی اجنبی سرزمین کی تنہائی میں گم ہو گئی۔
نجيب اللہ خطاب اپنی آواز میں خاموشی کے ساتھ درد بھری کہانی سناتے ہیں: “میں پاکستان میں پیدا ہوا، لیکن اب مجھے افغانستان واپس جانا ہے — وہاں موسیقی کے لیے کوئی جگہ نہیں۔”پاکستان میں پیدا ہوئے، لیکن افغانستان کی سرزمین واپس بلا رہی ہے۔ وہ خاندان، جو جوزجان سے بچ کر یہاں آیا تھا، دہائیوں تک امن میں رہا، مگر اب سرحدیں اور قوانین ان کے خواب چھیننے پر تیار ہیں۔پندرہ دن سے وہ UNHCR کے دفتر کے باہر کھڑے ہیں، ہاتھوں میں لپٹا ہوا سامان، چہروں پر تھکن اور دلوں میں امید کا اندھیرا۔ سرٹیفکیٹ، جو چند سفر کے اخراجات پورے کر سکتا ہے، ان جذباتی زخموں کا بوجھ نہیں ہٹا سکتا۔
افغانستان واپس جانا صرف ایک گھر کھونے کا مطلب نہیں، بلکہ اپنی زندگی کی محبت، اپنی موسیقی، اپنے خوابوں کا قبرستان ہے۔ طالبان کی پابندیوں نے ہر نغمے کو خاموش کر دیا، ہر دھن کو گم کر دیا۔ “موسیقی پر پابندی روح پر زنجیر ہے،” وہ سرجھک کر کہتے ہیں۔


پاکستان میں موسیقی ہی ان کی زندگی تھی، ان کا روزگار، ان کا ہنسنا، ان کا جینا۔ اب وہ نہیں جانتے کہ کہاں جائیں، کس امید پر اپنے دن گزاریں۔ پھر بھی ان کے دل میں کوئی غصہ نہیں، صرف خاموش قبولیت اور ایک ٹوٹی ہوئی امید باقی ہے: “ایک دن میں واپس آ کر دوبارہ گانا چاہتا ہوں… ہر تاریکی کے بعد، روشنی آئے گی۔”سرحدیں بند ہیں، وقت ٹھہرا ہوا ہے، اور سینکڑوں خاندان اپنے مستقبل کے لیے انتظار کر رہے ہیں، بے یقینی کے اندھیروں میں۔ UNHCR کا دفتر، خاموش گواہ بن کر کھڑا ہے، انسانی زندگیوں کے اس دکھ بھری ہجرت کا۔ یادیں، خواب، محبتیں، سب ایک لمحے میں رہائی کے منتظر، لیکن سرحدیں اور قوانین سب کچھ روک دیتے ہیں۔

یہ کہانی ہے ایک نسل کے درد کی، جدائی کی، اور ایک ایسی امید کی جو سرحدوں کے پیچھے چھپی رہ گئی۔

کیٹاگری میں : ادب

اپنا تبصرہ بھیجیں