اسلام آباد میں پہلی عالمی جنگ کی تاریخی یادگار کی مسماری — قومی ورثے سے سنگین غفلت

یہ واقعہ محض ایک تعمیراتی غلطی نہیں بلکہ قومی شعور، تاریخی ورثے اور بین الاقوامی ثقافتی اصولوں کی کھلی بے توقیری ہے۔ اسلام آباد جیسے وفاقی دارالحکومت میں، جہاں ریاستی اداروں سے ذمہ داری اور وژن کی توقع کی جاتی ہے، وہاں ایک صدی پرانی پہلی عالمی جنگ کی یادگار کو یوں مسمار کر دینا نہایت افسوسناک، قابلِ مذمت اور ادارہ جاتی ناکامی کی واضح مثال ہے۔

یہ یادگار صرف پتھر اور اینٹوں کا ڈھانچہ نہیں تھی بلکہ اُن گمنام سپاہیوں کی اجتماعی یاد تھی جنہوں نے 1914 کی عالمی جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ دیا۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کے عالمی اصول واضح طور پر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ثقافتی ورثہ، تاریخی یادگاریں اور جنگی یادگاریں کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے تابع نہیں بلکہ ان کا تحفظ ریاستی ذمہ داری ہے۔ دنیا بھر میں ترقی یافتہ ممالک اپنے تاریخی ورثے کو جدید تعمیرات کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہیں، نہ کہ اسے بلڈوز کر دیتے ہیں۔بدقسمتی سے یہاں صورتِ حال اس کے بالکل برعکس دکھائی دیتی ہے۔ سی ڈی اے اور ڈی ایچ اے جیسے اداروں کی جانب سے اس یادگار کے تحفظ میں مجرمانہ غفلت، اور متعلقہ حکومتی اداروں کی خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے ہاں آثارِ قدیمہ اور تاریخی ورثے کو کس قدر غیر اہم سمجھا جاتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف قومی تاریخ سے بے اعتنائی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ کے لیے بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔

یہ امر مزید تشویشناک ہے کہ محکمہ آثارِ قدیمہ کی واضح تنبیہ اور متبادل تحفظ کے مطالبے کے باوجود کوئی سنجیدہ اقدام نہ کیا گیا۔ اس کے برعکس جب نقصان ہو چکا تو بعد میں “تحفظ” کے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جو انتظامی نااہلی اور ترجیحات کی مکمل خرابی کو ظاہر کرتا ہے۔
دنیا اپنے شہروں میں قدیم یادگاروں کو محفوظ کر کے انہیں سیاحتی، تعلیمی اور ثقافتی مراکز میں تبدیل کر رہی ہے، جبکہ ہمارے ہاں ترقی کے نام پر تاریخ کو مٹایا جا رہا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ ایک ایسے معاشرے کی عکاسی کرتا ہے جو اپنی جڑوں سے کٹتا جا رہا ہے۔حکومتِ وقت کی جانب سے اس واقعے پر مؤثر کارروائی کا نہ ہونا بھی انتہائی تشویشناک ہے۔ نہ کوئی انکوائری، نہ کوئی احتساب، اور نہ ہی ذمہ داران کے خلاف کوئی واضح قدم—یہ خاموشی بذاتِ خود ایک طرح کی منظوری کے مترادف ہے۔یہ وقت ہے کہ ریاست پاکستان اپنے اداروں کو واضح پیغام دے کہ تاریخی ورثہ کوئی “راستے کی رکاوٹ” نہیں بلکہ قومی شناخت کا حصہ ہے۔ اگر ہم نے اپنے ماضی کو اسی طرح مٹانا جاری رکھا تو آنے والی نسلوں کے پاس فخر کرنے کے لیے صرف خالی زمین اور کھوکھلی عمارتیں رہ جائیں گی، تاریخ نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں